اسلام آباد کی پہاڑیوں میں واقع ایک ایسا گاوں جہاں جنگلی حیات اور انسان اچھے ہمسایوں کی طرح رہتے ہیں
بسلسلہ ملازمت میرا کوئیٹہ سے اسلام آباد اکثر آنا جانا لگا رھتا ھے۔ اسلام آباد جیسے جدید شہر کے اردگرد پھیلے پُرسکون سرسبز پہاڑوں کے پیچ روشنیوں کی چکاچوند سے متاثر نہ ہونے والے سادہ دیہی علاقے ہمیشہ سے میرے لئیے تجسُس اور کشش کا باعث رھیے ہیں مگر دفتری مصروفیات کی وجہ سے اس دیہی زندگی کا مطالعہ کرنے اور قریب سے دیکھنے کے لئیے کھبی وقت نہ نکال پایا ۔ اس مرتبہ جب میرے دوست راجہ ذاہد پرویز کیانی نے اصرار کیا کہ ان کے گاوں کی سئیر کی جائے تو میں نےاُن کے گاوں “ موڑہ راجگان کیانی” جو اسلام آباد سے ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پہ ایک پہاڑی چوٹی پہ واقع ہےجانے کا قصد کیا ۔ میں اسلام آباد میں سفر کے لیے اکثر “ کریم ٹیکسی سروس“ استعمال کرتا ھوں ایڈوینچر کے لئیے اس بار سفر کے لیے “ کریم کی موٹر سائیکل ٹیکسی سروس“ کا انتخاب کیا۔ کریم بائیک کا کپٹن ایک سلجھا ہوا پڑھا لکھا نوجوان تھا جس کے پاس سزوکی 150 سی سی اسپورٹس بائیک تھی۔ تعارف کے دوران پتہ چلا کہ بائیک کپٹن انوار کا تعلق کوئیٹہ کے علاقے سبزل روڈ سے ھےاور وہ بلوچستان میں بسنے والے ایک براھوئی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے ۔ براھوئی زبان بلوچی کی ذیلی ...