ڈھاڈر گاؤں میں بابو کی اماں کے ہاتھ کا بنا کچہ کمرہ ۔۔۔
پڑھیے اور اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیے) ( ندیم فیروزئی کی کرونا کے علاج دوران کی گئی تخلیق حصہ اول)
وہ جون 1998 کا گرم ترین مہنہ تھا میں چند لمحے پہلے ہی ٹرین کے زریعے کوئٹہ سے سبی آیا تھا حکومت بلوچستان نے میری محکمہ صحت میں بطور نیوٹریشن آفیسر 17 گریڈ میں تعیناتی کی تھی اور میری پہلی پوسٹنگ ضلعی آفیسر صحت سبی کے دفتر میں کی گئی تھی۔
میں یہ خوشخبری اپنے اسکول فیلوز یوسف سیال، محمد حفیظ عرف حبے، منیر احمد رند اور پیر بخش سیال کو سننانا چاھتا تھا۔
جبکہ کل صبح میں نے اپنی ذمہ داری کا چارج ضلعی آفیسر صحت سبی کے دفتر میں سنبھالنا تھا۔ سبی میں میرے بہت ہی اچھے دوست ایوب کھتران سے میں نے اس خبر کو ابھی مخفی رکھا تھا۔ میں کل ان سے ملکر انھیں سرپرائیز دینا چاھتا تھا۔
چوھدری جمیل ریلوئے اسٹیشن کے سامنے اپنے ھوٹل کے کاونٹر پہ بیٹھا تھا اس نے مجھے دیکھتے ہی آواز لگائی۔۔۔ بابوں چاہ لسی پیندا جا۔۔ میں نے ھاتھ ھلا کر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ چوھدری جمیل سبی شہر کی ھر دل عزیز سیاسی و سماجی شخصت ہے وہ ریلوئے کالونی وارڈ سے کونسلر منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔
میں نے ان کے ھوٹل کے سامنے سے ٹانگہ پکڑا ( چوھدری جمیل نے تانگے والے کو آواز لگائی ۔۔۔ کاکا ادو اساں جو دوست آ ہن سا جائیز کرایوں وٹھ جوو “ یہ بھائی ھمارا دوست ہے ان سے مناسب کرایہ لئیجے گا) اور اس طرح میں تانگے میں سوار ہو کر ڈیوس روڈ سے ہوتا ہوا چند منٹوں میں ہی اپنے گاؤں ڈھاڈر جانے کے لئیے ھرنائی پھاٹک کےمقامی ویگن اسٹاپ پہ پہنچا وین ڈرائیور ماما فیضو نے پہچانتے ہی نہایت گرم جوشی سے مصافہ کیا اور ڈرائیور کے ساتھ والی نشت کو اپنی چادر سے صاف کرتے ہوئے مجھے بلوچی زبان میں کہا بابو بیا فرنٹ سیٹ آ نند ( آئیے محترم فرنٹ سیٹ پہ تشریف رکھیں )مقامی وین میں ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ بابوں صاحبان ( سرکاری اھلکار) آفیسران و معتبرین کو ہی دی جاتی ہے۔ ڈرائیور عام طور پہ اس نشست کو چادر وغیرہ رکھ کر ریزور کر لیا کرتے ہیں جب کوئی معزز شخصیت آتی ہے تو یہ نشست انھیں پیش کی جاتی ہے۔
میں باقی سواریوں سےخود کو اہم محسوس کرتے ہوئے بڑے فخر سے ڈرائیور کے ساتھ والی نشت پہ براجمان ہو گیا۔
جون کا مہنہ سبی کی سخت گرمی حبس اور گرمی سے دم نکلا جا رہا تھا۔ جبکہ وین میں ائیرکنڈیشن کی سہولت بھی نہ تھی ۔
ماما فیضو نے شکوہ کیا بابوں تم تو اب پکے شہری ہو گئے تم گاؤں آتے ہی نہیں تمھاری زمین دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بنجر
ہو گئی ہے اس پہ بڑی بڑی شہنز ( کانٹے دار خودرو ) جھاڑیاں اور دَرب (سخت نوکیلی جنگلی گھاس اُگ چُکی ہیں۔
ماما فیضو نے اپنی بات رکھتے ہوئے دکھ بھرے لہجے میں کہا بابو اب توتمھاری اماں کے ہاتھ کے بنے کچے کوٹھے ( کمرے) بھی ڈھ گئیے ہیں ۔
میں ایک دس سالہ بچہ ملیشا کلر کا پرانا یونیفارم پہنے اپنے پاوں سے گارے میں بھوسہ ملا کر تغاری بھر بھر اپنی اماں کو پکڑاتا ہےاور اماں چند دن پہلے بنائی گئی دیوار پہ بڑی مہارت و برق رفتار سے سے گرمالے کی مدد سے لپائی کیے جارہی ہے۔
اماں گارے میں لتھڑے ھاتھ سے اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتےہوئے اپنےدس سالہ بیٹے کو فخریہ انداز میں دیکھتےہوئے کہتی ہے میرا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا افسر بنے گا شہر میں سرکاری نوکری کرےگا لمبی گاڑی میں گھومے گا یہ کہتے ہوئے اماں کی آنکھوں میں عجیب ناقابل بیاں چمک در آتی وہ بہت زیادہ خوشی محسوس کر رہی ہوتی ہے اماں کا گرمالے والا ہاتھ روک جاتاہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنی آنکھوں سے اپنے بیٹے کو افسر بنے لمبی گاڑی میں گھومتا دیکھ رہی ہے۔
دس سالہ بچہ گارے کی تغاری ہاتھ میں پکڑے حیرت سے اماں کو دیکھ کر سوچ رہا ہوتا کہ اماں کو کیا ہو گیاہے۔
اماں چونک کر بیٹے کے ہاتھ سے گارے کی تغاری لے لیتی ہے اور ھنستے ہوئے مذاق سے پوچھتی ہے ھاں بابو جب تو افسر بن جائے گا شہر میں نوکری کرے گا تب تو اپنی اماں کو تو نہیں بھول جائے گا۔۔۔۔؟ بابو تو اپنی اماں کو ملنے گاوں تو آیا کرے گا ؟
یکایک اماں کی ھنسی تھم جاتی ہے اماں کے چہرے پہ اداسی چھا جاتی ہے اماں کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو ٹپک کر گارے کی تغاری میں جذب ہو جاتے ہیں ۔ اماں اپنی اداسی اور آنکھوں میں آئے آنسو بیٹے سے چھپانے کے لئیےاپنے ہاتھ کی پشت سے پونچھتی ہےاور اپنا چہرہ دیوار کی جانب کر کے خاموشی سے لپائی کرنے لگتی ہے۔۔
یہ منظر مجھے بے قل و افسردہ کر دیتا ہے۔
ایسے میں ماما فیضو کی آواز مجھے ماضی سے واپس ھرنائی پھاٹک پہ لے آتی ہے ماما فیضو بڑے پیار سے ٹھنڈا لیمو پانی کا مگ مجھے پیش کرتے ہوئے کہتا ہے “ بابو تھاں چرتاں گار بیتخے” بابو کن خیالوں میں کھو گئے ھوں “تمھیں گرمی لگ رہی ھو گی تم کوئیٹہ سے آئے ھو لیمو پانی پیوں اس سے تمھیں راحت ملے گی
اماں نے لپائی کرتے آج سے اٹھارہ سال پہلے کھلی آنکھوں سے جو خواب دیکھا تھا کہ اس کا بیٹا ایک دن سرکاری افسر بنے گا اماں کا وہ خواب آج پورا ھو چُکا تھا ۔۔۔۔۔
اماں کو پتہ تو چل گیا ھو گا مگر وہ خود یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لئیے موجود نہ تھی ۔۔۔۔
اماں کئی سال پہلے بے وقت ہمیں بلکتہ چھوڑ کر اپنے رب کے پاس چلی گئی تھی۔
میں فوراً اس تکلیف دہ یاد کو جھٹک کر واپس حقیقی دنیا میں لوٹ آتا ھوں۔
جب تھوڑی دیر بعد میرے حواس بحال ہوتے ہیں تو میں نے وین کے اندر کا جائیزہ لینا شروع کیا وین کے اندر چند ممیاتی بکریاں چند کُڑ کُڑ کرتی مرغیاں بھی میری ہم سفر تھیں ۔گاؤں کے بنیے ( ہندوں پرچون فروش ) سبی کی منڈی سے اپنی دکانوں کے لئیے سامان سمیت وین میں تشریف فرما تھے۔
وین میں گُڑ سرسوں کے تیل سمیت مختلف اجناس کی بو پھیلی ہوئی تھی ۔
مسافر گرمی سے بے حال اپنے رومال و گتے سے پھنکا جھلتے ڈرائیور سے وین چلانے کی درخواست کر رہیے تھے مگر ڈرائیور ماما فیضو وین چلانے پہ قطعی راضی نہ تھا تا وقتہ کہ پوری وین سواریوں سے کھچا کچھ بھر نہیں جاتی۔
مسافروں کے احتجاج پہ ماما فیضو بار بار صرف ایک ہی جملہ کہتا “ سوھڑا بس یک سواری کم اے ۔۔ یک سواری بیائے بس گُڑا درکفوں”
“ پیارے بس ایک سواری کم ہے جیسے ہی ایک سواری آ جاتی ہے ہم چل پڑیں گے”
یہ الگ بات ہے کہ متعدد سواریوں کے آنے کے باوجود ماما فیضو کی “ایک سواری پوری نہیں ہو پا رہی تھی۔ مجبوراً سواریاں وین میں نشت پہ اپنا رومال ، تولیہ ، صافی ( بڑے سائیز کا رومال ) رکھ کر نشت ریزور کرنے کے بعد وین سے باھر درخت کی چھاؤن میں کھڑے ہو کر گتے سے خود کو پھنکا جھل رہے تھے۔
ریلوئے پھاٹک کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس کی نہ چھت اور نہ کوئی کمرہ ہے بس قبلہ رُخ ایک محراب دو فٹ اونچی چاردیواری بنائی گئی ہے جبکہ مسجدمیں دری کی صفیں نماز کی ادائیگی کے لئیے بچھائی گئی ہیں۔
مسجد کے پہلو سے صاف پانی کی ایک چھوٹی سی نالی بہتی ہے۔ چند مسافر اس صاف پانی سے وضو کر کے مسجد کے اندر نماز ادا کر رہیے تھے۔
میں مسافروں کو نماز ادا کرتے دیکھ رہا تھا کہ میری نظر ایک شریر گلہری کے جوڑے پہ پڑی جو درخت سے مسجد کی دیوار پہ چھلانگ لگاتا نمازیوں کے سامنے سے پھدکتا ہوا دوبارہ درخت پہ جا چڑتا تھا۔
اس گلہری کے جوڑے کی اٹھکیلیاں جاری تھیں اور میں ان کی معصوم شراتوں سے محظوظ ہو رہا تھا۔
دوسری جانب گرمی سے بے حال مسافر اس صاف پانی سے بار بار ہاتھ منہ دھو کر گرمی کی شدت کو کم کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ وہ اپنے رومال تولیہ پانی میں بھگو کر اپنے سر پہ اس طرح رکھ رہیے تھے جس سے سر اور گُدی ڈھک جائے وہ یہ جتن خود کو گرمی اور لو لگنے سے بچانے کے لئیے کر رئیے تھے۔
سامنے کیکر کے سائے میں ٹھلے پہ لیمو پانی اور گنے کا تازہ رس فروخت کرنے والا امام بخش ھانبی گاھکوں کو متوجہ کرنے کے لیے زور زور سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ گرمی کا دشمن ماما امام بخش ھانبی کا اسپیشل دس روپے والا لیمو پانی اور ھرنائی کے شہد جیسے میٹھے گنے کے رس کا بڑا گلاس صرف دس روپے میں پیو اور ٹھنڈے ٹھار ہو جاو۔۔۔۔یہ جگر کی گرمی ختم کرتا ہے لو لگنے سے بچاتا ہے
۔۔۔
ان کے برابر ایک برزگ تھال میں لچھے سجائے ھاتھ میں پکڑی گھنٹی بجا بجا کر گاھکوں کا منتظر تھا۔
مسجد کے ساتھ ایک پھری والا رنگ برنگے پراندے، دنداسہ کاجل سرخی پوڈر و بچوں کے کھلونےگُڑیا لئیے کھڑا تھا۔۔۔ اچانک میری نظر ماسی ھاجرہ پہ پڑی ماسی ھاجرہ اماں کی دوست تھی اس کی پانچ سالہ پوتی اپنی دادی کا ھاتھ کھنچتے ہوئے اس پھیری والے کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی میں اس کی آواز سن سکتا تھا وہ اپنی دادی سے گُڑیاخریدنے کی ضد کر رہی تھی۔
میں نے دیکھا ماسی ھاجرہ اپنی بلوچی کشیدہ والی قیمض کے سامنے والے جیب سے دس دس روپے کے مڑے تُڑے چند نوٹ نکالتی بار بار گنتی اور پھر اپنی پوتی کو بہلانے کی کوشش کرتی ہے بچی نے اب باقاعدہ بلند آواز میں رونا شروع کر دیا تھا مگر ماسی ھاجرہ کے پاس شاید واپسی کے کرائے کے پیسے ہی بچے تھے۔
سامنے کیکر کی چھاؤں میں کھڑے قلفی کھاتےوین کنڈیکٹر علی جان کو میں نے ہاتھ کے اشارے سے پاس بلا کر کہا اس بچی کو گُڑیا لے دو پیسے میں دونگا۔۔۔
پچیس روپے کی گُڑیا پا کر وہ بچی ایسے خوش ھوئی جیسے اسے کوئی خزانہ مل گیا ھو۔۔ میں اس منظر نامے میں ایسا کھو گیا تھا کہ مجھے ارد گرد کا کوئی ھوش نہ تھا۔۔۔۔
تب ہی اچانک ایک کرخت مردانہ آواز “ بابو آج کیسے راستہ بھول گئے؟”
میرے کان کے پردے سے ٹکرائی میں نے چونک کر اس کی جانب دیکھا اس کی شکل مجھے مانوس دیکھی دیکھی سی لگی۔۔۔
اب وہ ھاتھ کے اشارے سے مجھے متوجہ کر رہا تھا۔۔۔
مگر میں تو اپنے ذہن پہ زور ڈال کر سوچ رہا تھا کہ آخر اس کو میں پہلے کہاں دیکھ چُکا ھوں ۔
ایک دم سے میرے دماغ میں ایک بجلی سی چمکتی ہے۔۔۔۔
میں نے چلا کر اس سے کہاں میں نے تمھیں پہچان لیا۔۔۔۔ میں نے تمھیں پہچان لیا
۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔

Comments
Post a Comment