بلوچستان کے قبائلی معاشرے کے نوجوانوں میں بڑھتا ہوا تشدد اور عدم برداشت کا رجحان
بلوچستان کے قبائلی معاشرے کے نوجوانوں میں بڑھتا ہوا تشدد اور عدم برداشت
بلوچستان کے سب سے بڑے شہر کوئیٹہ میں گذشتہ چند مہینوں میں معمولی تکرار اور تُو تُو میں میں پہ کئی قیمتی
انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
چند ماہ پیشتر ایک دلخراش واقعے میں لہڑی قبیلے کے دو گھرانوں میں گلی میں تھڑا بنانے پہ معمولی تکرار پہ دونوں جانب سے فائرنگ میں حاجی بورا خان لہڑی کے چار نوجوان بیٹے محمد دین، محمد حنیف، نصراللہ اورغلام فاروق جبکہ دوسرے فریق حاجی گاہی خان لہڑی کا ایک نوجوان بیٹا ذوالفقار قتل ہوا۔
ایسے ہی ایک اور افسوس ناک واقعے میں معمولی جھگڑے پہ بلوچستان
کے معروف ٹرانسپورٹر خاندان لہڑی قبیلے کے نوجوان میر براہمداغ لہڑی اور بلوچستان کے نہایت قابل احترام سیاسی سماجی اور قبائلی نواب رئیسانی گھرانے کے نوجوان نوابزادہ ہارون رئیسانی کے درمیان پیش آیا جس میں دونوں جانب سے کی جانے والی فائرنگ میں میر براہمداغ اور نوابزادہ ہارون رئیسانی جانبحق ہو گئے۔
کے معروف ٹرانسپورٹر خاندان لہڑی قبیلے کے نوجوان میر براہمداغ لہڑی اور بلوچستان کے نہایت قابل احترام سیاسی سماجی اور قبائلی نواب رئیسانی گھرانے کے نوجوان نوابزادہ ہارون رئیسانی کے درمیان پیش آیا جس میں دونوں جانب سے کی جانے والی فائرنگ میں میر براہمداغ اور نوابزادہ ہارون رئیسانی جانبحق ہو گئے۔
کل ایک اور معمولی تکرار نے ایک اور نوجوان کی جان لے لی۔
پشین کی معروف سماجی اور سیاسی شخصیت عیسٰسی روشان کا نوجوان 19 سالہ بیٹا گلی میں گاڑی کھڑی کرنے پہ ہمسائے سے معمولی منہ ماری پہ قتل کر دیا گیا۔
بلوچستان کے قبائلی نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے تشدد اور عدم برداشت پہ ہم نے
بلوچستان کی معروف سماجی شخصیت پیشہ ور سیکالوجیسٹ میر بہرام لہڑی سے رابطہ کیا اور نوجوانوں میں تشدد اور عدم برداشت کے بڑھتے رجحان کی وجوھات جاننے کی کوشش کی۔
میر بہرام لہڑی نے بتایا کہ اس طرح کے پرتشدد اورعدم بر داشت کے واقعیات بلخصوص نوجوانوں میں تواتر سے پیش آنے کی کئی نفسیاتی وجوھات ہو سکتی ہیں جن میں سے چند اہم یہ ہیں کہ ہمارے قبائلی معاشرے میں اولاد نرینہ کو بچپن سے ہی یہ باور کروایا جاتا ہے کہ وہ مرد ہے طاقتور ہے، بہادر ہے لڑاکا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ایک بچے کی ذھنی نشونما ہو رہی ہوتی ہے اور نفسیاتی سماجی رویے بن ریے ہوتے ہیں۔
ایسے میں بچہ معاشرے و خاندان میں اپنے اردگرد پائے جانے والے ایسے کرداروں کو اپنا آئیدیل سمجھنے لگتا ہے۔
دوسری بڑی وجہ آجکل والدین اور بچوں میں فاصلے بڑھ چکے ہیں والدین اپنے بچوں کو مناسب وقت نہیں دیتے مار پیٹ اور تشدد کرتے ہیں والدین بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ نہیں رکھتے جس کی وجہ سے بچوں اور والدین میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں بچے سوشل میڈیا کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور اپنا ذیادہ وقت پرتشدد آن لائن کھیلوں، جنسی مواد کی ویب سائیٹس پہ گزارتے ہیں جن تک بچوں کی رسائی نہایت آسان ہے بچے پرتشدد آن لائن کھیلوں میں مصروف ہو جاتے ہیں جس سے ان کی شخصیت میں تشدد، انتہاپسندی، بدتمیزی اور بے راہ روی کا عنصر جگہ بنانے لگتا ہے اور اسیے بچے پرسنالٹی ڈس آڈر ( نفسیاتی بگاڑ) کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سئینر بلوچ سیکالوجسٹ میر بہرام لہڑی ایسے والدین جن کے نوعمر و نوجوان بچے ہیں انھیں مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں سے دوستانہ رویہ اپنائیں، بچوں کی سرگرمیوں پہ نظر رکھیں اگر وہ اپنے بچوں میں کسی قسم کا پرتشدد ، باغیانہ، انتہاپسندانہ رویہ نوٹ کریں تو بچوں سے مارپیٹ، تذلیل اور سختی سے نہ پیش آئیں بلکہ بچوں کو دوستانہ انداز میں سمجھائیں، انھیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔
نفسیاتی بگاڑ ( سیکالوجیکل ڈس آڈر) بڑھنے کی صورت میں فوری طور پہ نفسیاتی معالج اور سیکالوجسٹ سے بچے کا معائینہ کروائیں اور کونسلنگ شیشن کروائیں۔


Thanks for highlighting such an important issue.
ReplyDelete