قصہ عمران سیریز کے سیکریٹ ایجنٹ ندیم شاھد اور کچھی لیویز و سبی پولیس کی آنکھ مچولی کا۔



یہ سن 1986 کی بات ہے میں ‏میٹرک کے دو سالوں میں گھر والوں کی جانب سے مار پھٹکار اور منع کرنے کے باوجود عمران سیریز کے ساڑھے پانچ سو ناولز پڑھنے کے بعد بھی امتیازی نمبروں سے میٹرک پاس کر کے نہ صرف میں خود حیران ہوا تھا بلکہ اس امتحانی نتیجے پہ والد، والدہ بھی شدید حیرانگی کا شکار تھے. ان دنوں میں پچاس پیسے کا ایرانی شیک چنگم کا پیکٹ خرید کر سارا دن عمران سیریز کے ھیرو کی طرح پیکٹ کھول کر ایک چنگم کا پیس دانتوں سے چبا کر خود کو کسی اہم مشن پہ تعینات سیکریٹ ایجنٹ سمجھتا تھا۔
میں فرسٹ ائیر میں داخلے کے لییے کالج جانے کا سوچ کر دل ہی دل میں خود کو عمران اور بلیک زیرو کے بعد سیکرٹ سروس کا سب سے اہم رکن کے طور پر کوالیفائی تصور کرتا تھا۔ ایک دن خیال آیا کہ سیکرٹ ایجنٹ عمران کی طرح ہمارے پاس خفیہ اسلحہ ہونا چاہئیے کہ دشمن تنظیموں کا کیا پتہ؟ کہیں بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لہٰذا ایک عدد این سی سی والی پتلون کی بیلٹ خریدی، ایک چھوٹا چاقو، لوہے کا آہنی مکہ خریدا، سائیکل کے پرانے ٹائیر کو جلا کر اس کی لوہے کی تاروں سے ایک عدد ھنٹر تیار کر لیا اور   موچی سے یوں سلائی کروائی کہ یہ سارا اسلحہ اس بیلٹ پہ اڑسا جا سکے۔ انھی دنوں ہمیں  کالج میں داخلہ کے سلسلے میں اپنے گاؤں ڈھاڈر سے سبی جانا پڑا تو فیصلہ کیا کہ کپڑوں کے نیچے یہ سیکرٹ بیلٹ پہن لی جائے کہ سبی کا کیا پتہ؟ کہیں بھی دشمن سے سامنا ہو سکتا ہے اور اس سپیشل سیکریٹ بیلٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے، سپیشل سیکرٹ ںیلٹ کی مدد سے دشمن کے چنگل سے آزاد ہو گئے تو والد صاحب کا اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے کیوں کہ والد صاحب ہماری پڑھائی میں عدم دلچسپی اور ھیروازم ، نصاب کی کتابوں کے بجائے ہر وقت " سسپنس" جاسوسی " ڈائجسٹس اور "عمران سریز" پڑھنے کے جنون کی وجہ سے ھمارے مستقبل بارے بہت زیادہ فکر مند رہتے تھے اور اکثر " عمران سیریز" کے رائیٹر " اشتیاق احمد"  کے بارے میں کچھ ایسے خیالات کا اظہار کرتے تھے جو قابل تحریر نہ تھا۔
  ہم جنوری کی سردیوں کی ایک دھندلکی صبح پِلان کے مطابق سپیشل سیکرٹ بیلٹ پہن کر صبح ساڑھے سات بجے ماما فیضو کی بس پر سبی جانے کے لییے سوار ہو گئے، یہ ہمارا تن تنہا پہلا دورہِ سبی تھا۔ بس کمبڑی کے پل پہ پہنچی تو کچھی لیویز نے ناکہ لگایا ہوا تھا۔ بس ایک سائیڈ پر روک کر ملیشا کلر کی قمیض شلوار کی یونیفارم میں ملبوس سر پہ بلوچستان لیویز کے مونو گرام والی کیپ پہنے، کندھے پہ پنچ فیری بندوق لٹکائےدو لیویز اھلکار بس میں سوار ہوئے۔ لیویز اھلکاروں  نے بس میں داخل ہوتے ہی گردن اونچی کر کے سواریوں پر ایک طائرانہ نظر دوڑائی اس دوران ایک لیویز سپاھی نے چیدہ چیدہ مسافروں کو کھڑا کر کے تلاشی لینا شروع کردی، کہتے ہیں کہ ہر بڑے سائینسدان،  مصور، فلاسفر اور دانشور پر ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب اس کی فریکوئنسی  کائینات سے مل جاتی ہے اور اس پر کائنات کے راز آشکار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہمارا وہ لمحہ غالباً آ چکا تھا۔ ہم پر کائنات کے راز آشکار ہو رہے تھے اور ان رازوں میں مجھے لیویز تھانہ ڈھاڈر کے حوالات میں ایک بڑی بڑی مونچھوں اور خوفناک شکل والا لیویز دفعیدار جس کے ہاتھ میں چمڑے کا بنا لتر جس پہ لکھا "آجا میرے بالمہ تیرا انتظار ہے" صاف صاف نظر آ رہا تھا۔ ہماری بیلٹ میں ہر وہ اسلحہ موجود تھا جو ایک عدد چھوٹی موٹی واردات کے دوران درکار ہو سکتا تھا۔ جنوری کی اس دھندلکی صبح ہمیں اچانک بغلوں کے نیچے پسینہ محسوس ہوا۔ لیویز اھلکار نے نظر دوڑاتے دوڑاتے ہماری سیٹ کی طرف دیکھا ہمیں اس وقت اپنی شدید حماقت کا احساس ہو رہا تھا، ہماری شکل  پر معصومیت، بے چارگی، نیند، خوف اور حماقت کے احساس سے  بارہ بج رہیے تھے۔
"بابو تٌوں تھاندا روغئے؟" ( بابو تم کہاں جا رہیے ہو؟) لیویز اھلکار نے بلوچی زبان میں دریافت کیا..
بمشکل منمناتے ہوئے عرض کیا۔۔۔' سیوی!! کالج داخلہ واسطہ سیوی رواغا'...(سبی!! کالج میں داخلہ لینے سبی جا رہا ہوں)
"شاباش۔۔شاباش۔۔پڑھاہی کاں  باز جوان ایں (شاباش پڑھائی جاری رکھیں یہ اچھی بات ہے) ۔۔لیویر اھلکار نے ہمیں نصیحت کی۔
"اچھا جی"..میں نے بے چارگی سے جواب دیا۔
اسکے بعد لیویز اھلکار  نے بس کنڈیکٹر سے اپنے حصے کے پچاس روپے وصول کیے اور بس سے اتر گیئے۔
کنڈیکٹر علی جان نے بس کی سائیڈ پر زور دار ہاتھ مارتے ہوئے نعرہِ مستانہ بلند کیا۔۔"استاد چھلو"اور ڈرائیور نے بس آگے بڑھا لی تو ہماری جان میں جان آئی۔ چند منٹ کے بعد میں نے ساتھ والی سیٹ پہ تشریف فرما بزرگ سے پوچھا کہ کیا بس اب مزید کسی لیویز ناکے پہ رکے گی!  بزرگ نے کہا کہ یہ تو کچھی لیویز تھی بہت اچھے لوگ ہیں ابھی ناڑی بینک کے پل پہ سبی پولیس کا ناکا ہے وہ بہت سخت اور بدتمیز ہیں یہ کہتے ہوئے انھوں نے پولیس کی شان میں چند کلمات ادا کیے جو قابل تحریر نہ تھے اس لیئے وہ ہم سنسر کیئے دیتے ہیں۔ یہ سنتے ہی ہم نے اپنا ہاتھ قمیض میں لے جا کر ںیلٹ کھولی۔۔ اگلے دس منٹ میں آہستہ آہستہ بیلٹ قمیض سے نکالی تو ساتھ میں اونگھ رہے مسافر کی آنکھ کھل گئی۔  ہندو بنیا تھا سادہ سا آدمی تھا، شاید اپنی دوکان کےلئیے مال لینے سبی جا رہا تھا۔ اس دور میں صبح صبح سفر کرنے والے مسافر اکثر چھوٹے تاجر یا پھر سرکاری ملازمین ہی ہوا کرتے تھے۔۔۔  بابو اے چھا اے (بابو یہ کیا ہے؟) ' اس نے اونگھتے ہوئے ایک آنکھ کھول کر سندھی زبان میں پوچھا۔ 
"کچ نا اے چاچا" میں نے کہا اور بڑی برق رفتاری سےبیلٹ اپنے کالج بیگ میں منتقل کر دی۔ 
کچھ دیر بعد ناڑی بینک پل پہ لگا سبی پولیس کا ناکہ بھی آ گیا، سبی پولیس اھلکار بس میں داخل ہوئے، بس کے مسافروں پر نظر دوڑائی اور اپنے پچاس روپے وصول کر کے اطمعنان سے بس سے اتر گیئے۔
کنڈیکٹر نے ایک بار پھر بس کی سائیڈ بجا کر  "استاد چھلو" کہا تو ماما۔فیضو نے بیڑی کا لمبا کش لگایا اور بس سبی شہر کی جانب موڑ دی۔۔۔
سبی چاکر روڈ چونگی آخری اسٹاپ پہ ہم بھی دیگر سواریاں سمیت بس سے اترے اور سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی سپیشل سیکرٹ بیلٹ کو سبی چونگی چاکر روڈ کے ساتھ واقع قبرستان میں پھینک کر سیکرٹ سروس کی خیالی نوکری سے استعفیٰ دے دیا۔ اس دن پہلی بار کچھی لیویز اور سبی  پولیس کے فرائض کی بجا آوری میں غفلت کے فوائد کا احساس ہوا۔۔

Comments

Popular posts from this blog

اسلام آباد کی پہاڑیوں میں واقع ایک ایسا گاوں جہاں جنگلی حیات اور انسان اچھے ہمسایوں کی طرح رہتے ہیں

ڈھاڈر گاؤں میں بابو کی اماں کے ہاتھ کا بنا کچہ کمرہ ۔۔۔

بلوچستان کے قبائلی معاشرے کے نوجوانوں میں بڑھتا ہوا تشدد اور عدم برداشت کا رجحان