قصہ ھنہ اُڑک کے قبائلیوں کا جنھوں نے اپنے علاقے میں لاھور سے سئیر و تفریحی کے لئیے آنے والے فرد کو روزہ " توڑنے" پہ مجبور کیا۔
یہ سن 1996 کی بات ہے مجھے ایک قومی غیر سرکاری تنظیم FPAP فیملی پلانگ ایسوسی ایشن پاکستان میں بطور اسسٹنٹ ڈاریکٹر اپنی ذمہ داریاں شروع کییے چند ماہ ہی ہوئے تھے ۔ FPAP کا مرکزی دفتر لاھور میں واقع ہے تو مرکزی دفتر سے ایک سئینر افسر دفتری دُرہ کے سلسلے میں کوئیٹہ تشریف لائے۔
یہ جنوری کا مہینہ تھا اور رمضان کے روزے چل رہیے تھے۔
ایسے میں ہم نے ان کی روائیتی مہمان نوازی کرتے ہوئے انھیں 1996 کے مشہور کھانوں کے ھوٹلوں پہ افطاریاں کروائیں جن میں پرنس روڈ پہ واقع گرین ھوٹل کا کھانا، صرافہ بازار شارع اقبال پہ واقع رنگین ھوٹل کا روش (روسٹ) لہڑی سجی اور چوھڑ مل روڈ پہ واقع ازبک ھوٹل کے تکے اور قابلی پلاؤ سے ان کی خاطر تواضع کی گئی۔
ان دنوں کوئیٹہ شہر میں ائیر پورٹ روڈ پہ عسکری پارک نیا نیا بنا تھا تو لاھور سے آئے مہمان کو وہاں کا بھی ایک چکر لگوایا گیا۔
ایک دن صبح سے ہی بارش اور برفباری ہو رہی تھی تو ہم نے دفتری وقت ختم ہونے کے بعد اپنے مہمان کو اسپین کاریز، ھنہ جھیل اور ھنہ اُڑک لیکر جانے کا فیصلہ کیا۔ اور یہ طے پایا کہ آج افطاری ھنہ اوڑک میں سیب کے کسی باغ میں کی جائے۔ ہم نے افطاری کے تمام لوازمات گاڑی میں رکھے ٹیکسی اسٹینڈ پہ ٹوکیو فوٹوز والوں سے اپنے یاشیکہ کیمرے میں فوٹو فلم (رول) ڈلوایا اور مہمان کو کوئیٹہ کینٹ (ان دنوں بلا روک ٹوک کینٹ جانے کی سہولت میسر تھی) تو ہم پانی تقسیم والی سڑک سے اسٹاف کالج والی سڑک سے ہوتے ہوئے ھنہ اُڑک والی روڈ پہ جا نکلے۔
اسپین کاریز، واقعی میں اسپین ہو رہا تھا ( پشتو زبان میں اسپین سفید کو کہتے ہیں) ایک فٹ سے بھی زیادہ برف پڑی تھی اس علاقے میں، ہم نے وہاں تصاویر بنائیں، پھر ھنہ جھیل کی خوبصورتی سے محظوظ ہوتے ہوئے ھنہ اُڑک کی راہ لی۔
ھنہ اُڑک جاتے ہوئے راستے میں ہم نے اپنے مہمان کو بتایا کہ موسم بہار میں راستے میں جابجا دلفریب رنگوں کے گلاب کے پھول کِھل جاتے ہیں جن کی خوشبو سے فضا مہک اٹھتی ہے اور چاروں جانب ایک دلکش نظارہ ہوتا ہے۔ مئی کے مہینے میں ھنہ اُڑک کے سیب کے باغات میں درخت خوش ذائقہ سیبوں سے لد جاتے ہیں۔
ہمارے مہمان نے اشتیاق سے پوچھا کہ کیا ہم ان کے باغات سے سیب توڑ سکتے ہیں۔۔ ہم نے انھیں بتایا کہ اگر کوئی غیر مقامی سیاح ان کے باغات سے سیب توڑ لے تو انھیں یہ عمل بلکل بھی پسند نہیں، ان سیبوں کے بدلے پیسے نہیں لیتے بلکہ وہ ان سارے سیب کو دوبارہ درخت پہ لگانے کا کہتے ہیں۔
مقامی قبائیل اپنے علاقے میں تفریحی کے لیئے آنے والے افراد کے غیر ذمہ دارنہ رویے، ھلڑ بازی، اونچی آواز میں موسیقی لگانے، قبائیلی روایات کا پاس نہ رکھنے اور جاتے ہوئے مشروبات کی خالی بوتلیں، پلاسٹک کی تھیلیاں و دیگر کچرہ وہاں چھوڑ جانے کی وجہ سے ان بن بلائے مہمانوں سے خائف رہتے ہیں اور انھیں پسند نہیں کرتے۔
یہ گفتگو کرتے ہوئے ہم سیب کے ایک باغ میں تصاویر لے رہیے تھے کہ ایسے میں کوئی نصف درجن کے قریب مقامی قبائیلی پہاڑ پہ واقع اپنے گاؤں سے بڑی برق رفتاری سے ہماری جانب آتے دیکھائے دیئے۔
ھنہ اُڑک کے علاقے میں ہموار زمین کی کمی ہے اس لیئے ہموار زمین کو مقامی قبائیل باغات لگانے کے لیئے استعمال کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے گھر ناہموار پہاڑوں پہ بناتے ہیں۔
ان افراد کو اپنی جانب آتا دیکھ کر ہمارے مہمان کی تو جیسے سیٹی گم ہو گئی ہو ان کا رنگ خوف سے زرد ہو گیا۔
اب شام ڈھلنے والی تھی اور روزہ کھلنے میں چند منٹ ہی رہ گئیے تھے۔
قبائلیوں نے آتے ہی ہم سے پشتو زبان میں سلام دعا کی ہم نے انھیں اپنے مہمان کے بارے میں بتایا کہ یہ لاھور سے آئے ہیں اورہم انھیں ھنہ اُڑک گھمانے لائیے ہیں۔
مقامی افراد نے ہمارے مہمان کو ہاتھ سے پکڑا اور کہا کہ " تم روزہ ادھر توڑو" ہمارا مہمان یہ سن کر پریشان ہو گیا اور مقامی افراد کی منت کرنے لگا کہ نہیں میں روزہ نہیں توڑوں گا۔
مگر مقامی قبائیلی اتنی آسانی سے کہاں چھوڑنے والے تھے اس بار انھوں نے اونچی آواز میں زور دیکر کہا کہ " تم اب ہمارے ساتھ ادھر روزہ توڑے گا" اور اب تو وہ اصرار سے آگے بڑھ کر زبردستی کرنے لگے تھے اور ان کی آواز بھی اونچی ہوتی جا رہی تھی۔
ایسے میں ہمارے مہمان کی حالت غیر ہو چکی تھی وہ ان کی منت سماجت کرنے لگا تھا کہ "خان صاحب " اب تو روزہ کھلنے میں چند منٹ رہ گیئے ہیں اس وقت میں روزہ نہیں "توڑ" سکتا آپ مجھے معافی دیں میں آئیندہ کھبی آپ کے باغات میں نہیں آوں گا۔۔۔
ہم اس صورت حال سے محظوظ ہو رہیے تھے، مگر
ہمیں لگا کہ اب ہمارا مہمان باقاعدہ رو پڑے گا اور اسے دل کا دَرہ پڑ سکتا ہے۔
تو ہم نے مداخلت کرتے ہوئے اپنے مہمان کو بتایا کہ ان کا یہ کہنا کہ "تم روزہ ادھر توڑو" سے مراد ہے کہ "ملک" صاحب آپ کو اپنے گھر پہ روزہ افطار کرنے کی درخواست کر رہیے ہیں۔ بطور مہمان وہ آپ کی میزبانی اور خاطر مدارت کرنا چاھتے ہیں۔
بس یہ سن کر ہمارے مہمان نے سکون کی سانس لی اور ان کی جان میں جان آئی۔
ہم ملک صاحب (مقامی قبائیلی سربراہ ) کے ہمراہ ان کی بیھٹک پہ گئیے۔
ملک صاحب نے افطاری میں ہمیں "لَدندی" پیش کی۔ لاندی ایک مقامی غذا ہے جو شدید سرد موسم میں کھائی جاتی ہے یہ نہایت لذیذ ہوتی ہے اور سردی کے اثر کو زائل کرتی ہے۔ یہ خوراک بلوچستان کے سرد علاقوں میں رہنے والے بلوچ پشتون قبائیل سردیوں کی آمد سے قبل خصوصی طور پہ پالے گیئے دنبے اور بکرے کو ذبح کر کے اس کے گوشت کو خشک کر لیتے ہیں اور شدید سرد موسم میں سادہ مصالہ جات کے ساتھ اس کے شوربہ اور بوٹیوں میں روٹی "کُوٹی" (روٹی کے چھوٹے ٹکڑے ) کر کے کھائی جاتی ہے۔
لاندی کی افطاری کے بعد ہمیں ترخہ شن چائے (پھیکی سبز چائے) ٹافیوں کے ساتھ پیش کی گئی۔
پھیکی چائے کے ساتھ پیش کی جانے والی ٹافیوں کو مقامی زبان میں"پلمیٹ" کہا جاتا ہے۔
اس شاندار روایتی مقامی لذیذ کھانا کھلانے پہ ہم نے ملک صاحب کا شکریہ ادا کیا اور کوئیٹہ واپسی کی راہ لی۔
Comments
Post a Comment